جمعہ 27 فروری 2026 - 17:35
قرآنِ مجید کی روشنی میں روزہ

حوزہ/ روزہ اسلام کے اہم ترین ارکان میں سے ایک ہے۔ قرآن مجید میں روزے کو ایک عظیم عبادت اور روحانی تربیت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر تربیتی نظام ہے جو انسان کی روح، عقل اور معاشرتی زندگی کو پاکیزگی عطا کرتا ہے۔

تحریر: سیده ناظمه حسينی

حوزہ نیوز ایجنسی I روزہ اسلام کے اہم ترین ارکان میں سے ایک ہے۔ قرآن مجید میں روزے کو ایک عظیم عبادت اور روحانی تربیت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر تربیتی نظام ہے جو انسان کی روح، عقل اور معاشرتی زندگی کو پاکیزگی عطا کرتا ہے۔

روزے کا قرآنی حکم

روزے کا واضح حکم سورہ بقرہ میں بیان ہوا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

(اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم متقی بن جاؤ۔)

(آیت 183)

اس آیت سے چند اہم نکات سامنے آتے ہیں:

روزہ صرف امتِ محمدیہؐ پر نہیں بلکہ سابقہ امتوں پر بھی فرض تھا۔

روزے کا اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔

یہ حکم براہِ راست اہلِ ایمان کو خطاب کرکے دیا گیا ہے۔

رمضان اور نزولِ قرآن

قرآن مزید فرماتا ہے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ… (رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔) سورہ بقرہ، آیت 185

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ رمضان صرف روزے کا مہینہ نہیں بلکہ قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کا مہینہ ہے۔ اسی لیے شیعہ روایات میں رمضان کو “شہر اللہ” کہا گیا ہے۔

روزے کا مقصد: تقویٰ

"لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ" یعنی تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

تقویٰ کا مطلب ہے:

اللہ کی ناراضگی سے بچنا

گناہوں سے اجتناب

دل و دماغ کو پاک رکھنا

شیعہ تفسیر کے مطابق تقویٰ صرف ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ باطنی پاکیزگی بھی اس میں شامل ہے۔

شیعہ اثنا عشری فقہ میں روزہ

شیعہ فقہ کے مطابق روزہ کی تعریف:

"طلوع فجر سے مغرب تک اللہ کی رضا کے لیے مخصوص چیزوں سے پرہیز کرنا۔"

مبطلاتِ روزہ (جو چیزیں روزہ توڑ دیتی ہیں):

جان بوجھ کر کھانا پینا

جماع

استمناء

جھوٹ کو اللہ یا معصومینؑ کی طرف نسبت دینا

غلیظ غبار حلق تک پہنچانا (احتیاط واجب کے مطابق)

قے کرنا (جان بوجھ کر)

یہ احکام مراجع عظام جیسے آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کی توضیح المسائل میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔

مریض اور مسافر کے لیے رخصت

قرآن فرماتا ہے: فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ

(پس جو تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔)

— سورہ بقرہ، آیت 184

یہ اسلام کی آسانی اور رحمت کی دلیل ہے۔

روزے کے روحانی اثرات

صبر کی تربیت

نفس پر قابو

فقراء کا احساس

دعاؤں کی قبولیت

روحانی قربِ الٰہی

روایات میں آیا ہے کہ روزہ جہنم سے بچانے والی ڈھال ہے اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے بہتر ہے۔

اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں روزہ

شیعہ روایات کے مطابق اہلِ بیتؑ نے روزے کو صرف ظاہری عبادت نہیں بلکہ اخلاقی اصلاح کا ذریعہ قرار دیا۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ:

"جب تم روزہ رکھو تو تمہاری آنکھ، کان، زبان اور تمام اعضاء بھی روزہ دار ہونے چاہئیں۔"

یعنی غیبت، جھوٹ، حسد اور بغض سے بھی پرہیز کرنا ضروری ہے۔

نتیجہ

قرآن کی روشنی میں روزہ ایک جامع عبادت ہے جس کا مقصد انسان کو متقی، صابر اور شکر گزار بنانا ہے۔ رمضان المبارک قرآن سے تعلق مضبوط کرنے، دعا و استغفار کرنے اور نفس کی اصلاح کا سنہری موقع ہے۔

شیعہ اثنا عشری تعلیمات کے مطابق روزہ ظاہری و باطنی پاکیزگی کا نام ہے۔ اگر انسان صرف بھوکا پیاسا رہے لیکن اخلاق نہ سنوارے تو وہ روزے کی حقیقی روح حاصل نہیں کر سکتا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha